ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شموگہ میں بجرنگ دل کارکن کے قتل کے بعد تشدد کی وارداتیں؛ بے قابو حالات پر قابو پانے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے

شموگہ میں بجرنگ دل کارکن کے قتل کے بعد تشدد کی وارداتیں؛ بے قابو حالات پر قابو پانے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے

Tue, 22 Feb 2022 00:29:58    S.O. News Service

شیموگہ،21؍فروری (ایس او نیوز) شیموگہ میں اتوار رات کو بجرنگ دل کارکن ہرشا  کے نامعلوم لوگوں کے ہاتھوں قتل کی واردات کے بعد ویسے تو پولس نے تین لوگوں کوگرفتار کرلیا ہے، مگر اس قتل کو لے کر شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے پورے شموگہ میں تشدد برپا کردیا،اور مسلم دکانوں اور مکانوں پر توڑ پھوڑ مچائی، ساتھ ساتھ بعض جگہوں پر آتشزنی بھی کی۔

حالات کو دیکھتے ہوئے پورے شہر میں پولس کی زائد فورس تعینات کی گئی ہے، ایک طرف تشدد پر قابو پانے کے لئے پولس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا، وہیں اُنہیں ہوائی فائرنگ بھی کرنی پڑی اور آنسو گیس کے گولے بھی داغنے پڑے۔  ویسے تو شموگہ میں حالات نہایت کشیدہ ہیں، مگر پورے علاقہ کو پولس چھاونی میں تبدیل کئے جانے کی وجہ سے زیر قابو ہیں۔

واردات کے بعد سےشموگہ میں امتناعی احکامات دفعہ 144 نافذ ہیں مگر اس کے باوجود جب مہلوک نوجوان کی نعش اسپتال سے گھر لے جائی گئی تو ہزاروں  لوگوں نے امتناعی احکامات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے  جنازے میں شریک ہوئے اور مسلم محلوں میں خوب اُودھم مچایا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق شر پسندوں نے شہر کےنالبندواڑی میں موجود کئی مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بناکر توڑپھوڑکی اور کئی سواریوں کو بھی نقصان پہنچایا۔۔اسی علاقے میں موجود ایک مذہبی مقام کو بھی نشانہ بنایاگیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب بھی شموگہ میں کسی طرح کی واردات پیش آتی ہے، شرپسند ہمیشہ اُن کے ہی علاقوں میں پہنچ کرتشدد برپا کرتے ہیں اور اُن کے ہی علاقے میں توڑ پھوڑکی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا جینا محال ہوگیا ہے۔

پتہ چلا ہے کہ پیر صبح ہرشا کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے بعد جب لواحقین کے حوالے کیاگیا تو سینکروں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں شامل سنگھ پریوارکے کارکنوں نےمسلم اکثریتی علاقوں سے جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنایا۔

شہرکے این ٹی روڈ پر جب ہرشا کی لاش جلوس کی شکل میں لے جائی جارہی تھی تو اُس وقت جلوس میں شامل لوگوں نے مسلمانوں کی املاک پرزبردست پتھرائو کیا جس کی وجہ سے حالات بے قابو رہےاور جب یہ جلوس کلرک پیٹ پہنچا تو وہاں پر بھی قریب آدھے گھنٹے تک پتھرائو جاری رہا، بتایا گیا کہ یہاں دوسری طرف سے بھی جوابی پتھراو کیا گیا، البتہ مسلم محلوں میں مقیم لوگوں کو ہی بہت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

 تشدد کے نتیجے میں 20 لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں، جنہیں میگان اسپتال لےجایا گیا ہے۔ ا ے ڈی جی پی مرگن سمیت کئی اعلیٰ افسران شیموگہ پہنچ کر حالات پر قابو پانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ جھڑپوں میں صحافیوں سمیت متعدد افراد کو بھی چوٹیں آئی ہیں،جبکہ کئی مکانات پر پتھرائو ہونے کی وجہ سے مکانات کو شدید نقصان پہنچاہے۔ پی ٹی آئی کے فوٹو جرنلسٹ لنگن گوڈا،روزنامہ آج کاانقلاب کے ویڈیو جرنلسٹ محمد رفیع قادری کو بھی گہری چوٹیں آئی ہیں،اس سلسلے میں انہوں نے دوڈاپیٹے پولیس تھانے میں معاملہ درج کروایا ہے۔

شہرکے سیگے ہٹی سے منسلک نالبندواڑی نامی علاقے میں جہاں پر مسلمانوں کے محدود مکانات ہیں،اُن مکانات کوکل رات شرپسندوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایاتھا، جس کے بعد مقامی لوگوں میں  خوف پایا جارہا ہے۔ محدود مکانات ہونے اور شرپسندوں کے ذریعے دوبارہ نقصان پہنچانے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے کنڑیگرا جنا پرا ویدیکے کے کارکنوں نے آج مقامی پولیس کے تعاون سے یہاں کی خواتین کو بذریعہ ایمبولنس محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

تین افراد گرفتار: بجرنگ دل کارکن ہرشا کے قتل کے الزام میں پولس نے تین لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، پولس کا کہنا ہے کہ چار سے پانچ لوگ ہرشا کے قتل میں ملوث ہیں اور یہ کون لوگ ہیں ہمیں پتہ چل چکا ہے، بہت جلد ہم دیگر ملزموں کو بھی گرفتار کریں گے۔ اس موقع پر اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ ارگا گنیانیدر نے بتایا کہ اس سازش میں کسی بھی تنظیم کا ہاتھ نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے چھوٹے گروہ کی سازش ہے ۔

حالات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے شیموگہ اور بھدراوتی کے حدودمیں آنے والے تمام اسکولوں و کالجوں میں 22 فروری کو بھی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

کون ہے بجرنگ دل لیڈر ہرشا: ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مہلوک نوجوان ہرشا جو بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کا سرگرم رکن تھا ، اس کے خلاف یہاں کے دوڈا پیٹے اسٹیشن پر چار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس پر دیگر فرقہ کےنوجوانوں کے ساتھ تنازعات اور دیگر فرقہ کے جذبات کو بھڑکانے والے پوسٹرس سوشیل میڈیا پر آپ لوڈ کرنے کے الزامات تھے۔  متوفی کے لواحقین نے شکایت کی ہے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھی، جس کے بعد گھروالوں نے متعلقہ تنظیم کے ذمہ داروں کو خبر دی تھی، مگر کسی نے اس کی جان بچانے کی طرف توجہ نہیں دی۔

ہرشا شیموگہ شہر میں اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر کام کررہا تھا۔ ہرشا کے تعلق سے ذرائع نے خبر دی ہے کہ وہ ہمیشہ ہندوتوا اور گائے کے تحفظ جیسے مسائل پر آواز اٹھاتا تھا۔

متوفی ہرشا کی بڑی بہن اشونی نے وزیر داخلہ آروگا گننیندر کے سامنے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ ہرشا کی موت کے لئے جو بھی ذمہ دار ہو، اُسے فوری گرفتار کرکے ان کے خاندان کی مدد کی جائے۔ اس موقع پروزیر داخلہ آروگا گننیندرا نے بتایا کہ قتل کے الزام میں تین لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بہت جلد اس قتل کی پوری تصویر واضح ہوجائے گی۔


Share: